(ایجنسیز)
سعودی عرب نے سرکاری محکموں ،صحت اور تعلیمی داروں میں توانائی بخش مشروبات (انرجی ڈرنکس) کی فروخت پر پابندی عاید کردی ہے اور ان مشروبات کی کسی بھی شکل میں اشتہاربازی اور مشروبات ساز اداروں کی جانب سے کھیلوں،سماجی یا ثقافتی مقابلوں اور تقاریب کے لیے اسپانسرشپ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی اطلاع کے مطابق مقوی مشروبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ سوموار کو ریاض میں کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا ہے اور یہ اقدام وزارت داخلہ کے انرجی مشروبات کے منفی اثرات سے متعلق ایک مطالعے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
سعودی کابینہ نے اس ضمن میں جن اقدامات کی منظوری دی ہے،وہ حسب ذیل ہیں:
1۔کسی بھی توانائی بخش مشروب کی اشتہاربازی پر پابندی ہوگی اور ان کی کسی بھی قابل مطالعہ ،قابل سماعت یا بصارت میڈیا ذریعے
یا کسی بھی اورطریقے سے تشہیر یا فروغ پر پابندی ہوگی۔
2۔توانائی بخش مشروبات ساز کمپنیوں،ان کے ایجنٹوں ،تقسیم کاروں اور مارکیٹنگ ایسوسی ایشنوں پر کھیلوں کے کسی مقابلے ،سماجی یا ثقافتی تقاریب کی اسپانسرشپ یا کسی ایسے ضابطہ کار کو اختیار کرنے پر پابندی ہوگی جن کے ذریعے ان کی تشہیر یا فروغ ہوسکتا ہو۔
3۔تمام عمر گروپوں سے تعلق رکھنے والے صارفین کو توانائی بخش مشروبات فروخت نہیں کیے جاسکیں گے۔
4۔سرکاری محکموں ،تعلیم اور صحت کے اداروں کی کنٹینوں اور ریستورانوں ،ہالوں اور سرکاری اور نجی اسپورٹس کلبوں میں انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی ہوگی۔
5۔کابینہ کے فیصلے کے بعد توانائی بخش مشروبات تیار کرنے والی فیکٹریوں کے مالکان اور ان کے درآمد کنندگان ہرانرجی ڈرنک کے ٹن پر عربی اور انگریزی زبانوں میں ان کے مضراثرات کے بارے میں انتباہ لکھنے کے پابند ہوں گے۔